ڈی این اے کا راز: کرسٹوفر کا قتل اور 32 سال بعد انصاف

کبھی کبھی وقت سب راز کھول دیتا ہے…”
✍ تحریر از: رانا علی فیصل
🌐 ویب سائٹ: ranaaliofficial.com
📢 واٹس ایپ چینل: جوائن کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
1984 کی ایک سرد رات تھی۔ امریکہ کی ریاست مینیسوٹا میں ایک چھوٹے سے شہر کے لوگ سکون کی نیند سو رہے تھے، مگر ایک خاندان پر قیامت ٹوٹنے والی تھی۔ 12 سالہ لڑکی جینیفر اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک کوئی شخص کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوا۔ شور سن کر ماں بھاگتی ہوئی آئی، لیکن اس سے پہلے کہ وہ بچی کو بچا پاتی، قاتل نے اسے زد و کوب کیا اور فرار ہو گیا۔ اگلے دن بچی کی لاش قریبی کھیت سے ملی۔ پورا شہر صدمے میں ڈوب گیا۔
پولیس نے کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کی، درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا، مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ سب سے زیادہ خوفناک پہلو یہ تھا کہ قاتل نے کوئی ایسا نشان نہیں چھوڑا جس سے وہ پکڑا جا سکے۔ سال پر سال گزرتے گئے، لوگ کیس کو بھولنے لگے، مگر جینیفر کے والدین نے کبھی ہار نہیں مانی۔ وہ عدالتوں اور پولیس اسٹیشنوں کے چکر لگاتے رہے۔
1990 کی دہائی آئی تو ڈی این اے ٹیکنالوجی نئی نئی سامنے آئی۔ پولیس نے ثبوتوں کو دوبارہ لیب بھیجا۔ ڈی این اے کا ایک چھوٹا سا نشان ملا، مگر اس وقت مجرم کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔ کیس پھر بند کر دیا گیا۔ یہ زخم خاندان کے دل پر تازہ ہی رہا۔
پھر آیا 2016 — جب پولیس نے جدید ترین ڈی این اے ٹیکنالوجی استعمال کی۔ ثبوتوں کو دوبارہ پرکھا گیا اور بالآخر ایک نام سامنے آیا: Jerry Burns۔ وہ ایک عام سا بزنس مین تھا، شادی شدہ اور بچے دار، اور سماج میں ایک نیک آدمی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ مگر ڈی این اے جھوٹ نہیں بولتا۔ جب پولیس نے اسے گرفتار کیا تو وہ حیرت انگیز طور پر پرسکون تھا۔ اس نے کہا: “میں نہیں جانتا تم لوگ کس کے بارے میں بات کر رہے ہو…”
مگر عدالت میں جب شواہد پیش ہوئے، تو ہر کوئی سکتے میں آگیا۔ جینیفر کے کپڑوں سے ملا ڈی این اے مکمل طور پر جیری برنز سے میچ کر گیا۔ دفاع کے وکیل نے لاکھ تاویلیں دیں، مگر کوئی دلیل ڈی این اے کے ثبوت کے سامنے ٹھہر نہ سکی۔
32 سال بعد، آخرکار عدالت نے جیری برنز کو عمر قید کی سزا سنائی۔ جینیفر کے والدین نے کہا:
“ہم نے اپنی بچی کھو دی، مگر آج انصاف ملنے پر لگتا ہے کہ اس کی روح کو سکون مل گیا ہے۔”
یہ کیس دنیا بھر کے اخبارات کی زینت بنا کیونکہ یہ ان چند مقدمات میں سے ایک تھا جہاں جدید سائنس نے تین دہائیوں پرانے قتل کا راز کھولا اور قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔
